بھٹکل یکم اکتوبر (ایس او نیوز) ایک حادثے میں اپنے دونوں ہاتھ گنوانے والی لڑکی کو اس وقت نئی زندگی ملی جب کسی اور حادثے میں کوما میں چلے جانے کے بعد دماغی طور پر فوت ہونے والے نوجوان کے ہاتھ اسے جوڑ دئے گئے۔
کیرالہ کوچی شہر میں واقع امریتا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس میں شریا نامی طالبہ پر کیاگیاپیوندکاری کا یہ آپریشن پورے ایشیاء میں پہلی بار انجام دیا گیا ہے جس میں بیک وقت ایک نوجوان لڑکے کے دونوں ہاتھوں کی پیوندکاریtansplantation ایک نوجوان لڑکی کو کی گئی ہے۔شریا اصل میں پونے کی رہنے والی ہے اور وہ منی پال میں کیمیکل انجینئرنگ کی طالبہ ہے۔ پونے سے منی پال کی طرف سفر کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے میں شریہ کے دونوں ہاتھ بس کے ٹائر کے نیچے آکر بری طرح کچلے گئے تھے۔
دوسری طرف ایرناکولم کیرالہ میں بی کام فائنل کا طالب علم سچن نامی ایک نوجوان حادثے کا شکار ہوگیا اور کوما میں چلے جانے کے بعد وہ دوبارہ ہوش میں نہیں آیا ۔ جب ڈاکٹروں نے اس کی دماغی موت brain deadہونے کا اعلان کیا تو اس کے والدین نے سچن کے دونوں ہاتھ شریا کو عطیہ دینے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر سبرامنیم ایءّر کی قیادت میں20سرجنس کی ایک ٹیم نے 13گھنٹے تک چلنے والے اس انتہائی پیچیدہ آپریشن کو تکمیل تک پہنچاتے ہوئے ایشیائی ڈاکٹروں کے لئے ایک قابل رشک کارنامہ انجام دیا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق شریا کے ہاتھ دھیرے دھیرے کام کرنے لگے ہیں اور آئندہ ایک یاڈیڑھ سال کے اندریہ ہاتھ 85فی صد تک کام کرنے لگ جائیں گے جبکہ ہاتھوں کی پیوندکاری کے بعد شریا کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اوروہ پوری طرح پر اعتماد ہوگئی ہے کہ وہ جلد ہی ایک عام زندگی جینے کے لائق ہوجائے گی۔